ہفتہ، 28 اکتوبر، 2006

عید ایسے بھی گزری

ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 6:53 AM ,
کہانی کوئی نئی نہیں۔ وہی پرانی جو پچھلے چند عشروں سے ہمارا طرہ امتیاز بن گیا ہے۔
عید والے دن میرے دوست کا فون آیا یار آکر مل جا۔ میں رات کو اس کی طرف گیا تو یونہی باتوں باتوں میں کہنے لگا باہر دیکھا ہماری مسجد بن گئی ہے۔ ان کے محلے میں ایک مسجد زیر تعمیر تھی اب مکمل ہوگئی ہے۔ لیکن مکمل ہوکر اس نے کیا گل کھلائے یہی ہمارا موضوع ہے۔ سمجھ تو آپ گئے ہونگے کہ کیا ہوا ہوگا۔
چلیں میں بھی بتائے دیتا ہوں۔ کچھ بھی نہیں ہوا جس بندے نے مسجد کے لیے زیادہ چندہ دیا وہ خود مکان بدل کر پرے چلا گیا۔ اور اس کے بعد محلے کے "چوہدریوں" میں لڑائی شروع ہوگئی۔ لڑائی کس بات کی۔ مسجد کس فرقے کی ہو۔ بات کچھ بھی نہیں تھی۔ محلہ سارا بریلویوں کا ہے۔ انھوں نے مسجد بنی تو امام لاکر کھڑا کردیا۔ اب امام صاحب نے ہر اذان کے بعد سلام اور نماز جمعہ کے بعد جناب اعلٰی حضرت کا لکھا ہوا سلام جو شاعری کی شکل میں ہے پیش کرنا شروع کردیا۔
محلے کے ایک "سان" (سان کہتے ہیں جو سورما ہو) کو یہ بات بری لگی موصوف دیوبندی ہیں ان کے خیال میں یہ بدعت ہے چناچہ انھوں نے دو تین بندوں کو ساتھ ملایا، کہیں کچھ رابطے کیے اور مسجد میں اگلے دن موٹرسائیکلوں پر کلاشنکوف بردار فرشتے آگئے۔
سلام نہیں پڑھا جائے گا۔ کیوں نہیں۔ یہ وہ تو تکار اور بات لڑائی جھگڑے تک پہنچ گئی۔ امام صاحب کو انھوں نے پرے کیا اور اپنا بدعت سے پاک نیک امام وہاں کھڑا کردیا۔ اگلا جمعہ آیا تو امام صاحب نے 4 کلاشنکوفوں کے سائے میں جمعہ کی نماز پڑھائی۔ اسی دوران اتنی ہنگامہ آرائی ہوئی کہ ایک راہ چلتے سنتری نے پولیس بلا لی۔ مسجد کے باہر پولیس کا پہرہ لگ گیا اور بے گناہ نمازیوں کو بھی اندر محبوس رہنا پڑا۔ ناظم، محلے کے معززرین سب اس معاملے میں بے بس ہوگئے تو ایس پی نے دونوں پارٹیوں کے 4 4 بندے آفس بلالیے ۔
وہاں تو جو کچھ ہوگا وہ ہوگا اب حال یہ ہے کہ اس مسجد میں محلے کے صرف 5، 7 بندے نماز پڑھنے جاتے ہیں۔ ہاں البتہ کئی "فرشتے" موٹرسائیکلوں پر نماز پڑھنے ضرور آجاتے ہیں۔ خلق خدا کا کہناہے کہ سپاہ صحابہ کے فرشتے ہیں۔ حقیقت حال تو اللہ جانے ۔ اس سارے قضیے کا نتیجہ یہ ہے کہ محلے والے جو پہلے باہم شیر و شکر تھے اب ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے ہیں کہ یہ مخالف پارٹی کا بندہ تو نہیں، عید کے دن کا حال بھی سن لیں میرا دوست بتاتا ہے عید کے دن کم از کم ڈیڑھ ہزار آبادی والے اس محلے سے اس مسجد میں صرف بیس لوگ تھے۔ گنتی کے بیس لوگ دو صفیں جن میں وہ "فرشتے" بھی شامل تھے جو خصوصًا اس کام کے لیے آسمان سے بذریعہ موٹر سائیکل نازل ہوتے ہیں۔
یہیں بس نہیں ہوتی یہ ہمارے ایک عزیز کا قصہ ہے۔ شہر کے نزدیک ایک گاؤں میں ان کی کچھ زرعی اراضی ہے جس کے قریب ہی اب ٹاؤن وغیرہ بننے لگے ہیں لیکن اب بھی کہیں کہیں وہاں کاشت ہوتی ہے۔ انھوں نے اس رقبے پر ایک کونے میں مسجد بنا دی اور اوپر مدرسہ کہ خلق خدا نماز پڑھے اور دعائیں دے۔ مسجد کے مولانا نے پہلے تسلی سے جانچا پرکھا اور اب مسجد کی توسیع کے بہانے بغل میں لیڑینیں بنا کر باقی کے پلاٹ جو قریبًا ایک ایکڑ کا ہے کو راستہ بلاک کردیا ہے۔ مخالف پارٹی نے مولانا کو ہلا شیری دی بھئی شیر ہوجاؤ‌ ہم تہمارے ساتھ ہیں اور مولانا نے اب مالکان پر ایک عدد مقدمہ بھی کردیا ہے کہ مسجد میں آکر دہشت پھیلاتے ہیں ان بیچاروں کا قصور صرف اتنا تھا مولانا سے اس سلسلے میں بات چیت کرنے گئے تھے گرما گرمی ہوگئی اور مولانا تھانے پہنچ گئے۔ اس عید کا حال سنیے۔ عید پر اسی سلسلے میں ایک جھگٹرا بھی ہوچکا ہے اور اس میں ایک بندہ فائر لگنے سے زخمی بھی ہوگیا ہے۔
اب اگر میں دین کو ہائی جیکڈ اور ان مولویوں کو ہائی جیکر سمجھوں تو کیا یہ غلط ہے؟؟
اگر میں مسجد جاکر نماز پڑھنے سے گھبراؤں تو کیا یہ غلط ہے؟؟
اگر میں ان کے اس نام نہاد دین جس کو یہ اسلام کا نام دیتے ہیں کو نہ مانوں تو کیا یہ غلط ہے؟؟

Back Top

6 تبصرے:

  1. ہر گز آپ غلط نہیں ہوگے!!!! بلکہ یہ فرقہ واریت ہی ہمیں تباہ کر دے گی!!! لگتا تو یہ ہی ہے!!!

  2. اللہ ہم پر رحم کرے۔ ہم کہاں‌ جارہے ہیں۔

    محمد شاکر عزیز at 29 اکتوبر، 2006 2:06 AM
  3. لگتا ایسے ہی ہے۔

    محمد شاکر عزیز at 30 اکتوبر، 2006 5:14 AM
  4. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
    شاکر(دوست) بھائی، واقعی میں یہ ہمارامعاشرہ کدھرجارہاہے۔ اسلام جو ایک دین فطرت ہے اس کوہم نے اس طرح کارنگ دے دیاہے کہ اللہ کی پناہ، ہرکوئي فرقہ کہتاہے کہ بس وہ ہی سچاہے اورباقی سب مشرک، کافر، ہیں اورہمارے معاشرے میں حسن اخلاق جیسے ختم ہورہاہے۔ بس اپنی بات کوکہتے ہیں کہ صحیح ہے باقی سب غلط ہے اورہمارے اکثرمدرسوں میں یہی تعلیم دی جاتی ہے کہ تم ٹھیک ہےباقی سب فرقے غلط ہیں تم نے ہی جنت جاناہے دوسروں فرقوں کوقتل کرنے میں کوئی مذا‏ئقہ نہیں ہے بلکہ ان کوتوقتل کرناعین ثواب ہے۔ ایکدوسرے فرقے میں ذراسی بھی رواداری نہیں ہے۔میرے دوست ہم لوگوں کواس روش کوتبدیل کرناہے جس آدمی نے کلمہ طیبہ پڑھااوروہ ختم رسل پرایمان رکھتاہے وہ مسلمان ہے۔ اورہمیں چاہیے کہ ہم سب مل جل کررہیں بجائے ان معاملات میں الجھنے سے اپنے آپ کوان سے بلندکریں اورایک قوم ہوکرسوچیں۔
    اللہ تعالی سے دعاہے کہ اللہ تعالی ہماری حالت پررحم کرے اورہم کومل جل کررہنے کی ہمت و حوصلہ عطاء کرے (آمین ثم آمین)

    والسلام
    جاویداقبال

  5. بس بھائی اسی بات سے بددل ہیں ہم۔
    یہاں تو یہ حال ہے کہ احادیث کوٹ کی جاتی ہیں ایک دوسرے پر۔
    ایک جگہ یہیں کہیں پڑھا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے قریب کچھ لوگ ایس ہونگے جو شلواریں ٹخنوں سے اونچی رکھیں گے اور لمبی ڈاڑھیاں رکھیں گے لیکن عمل سے خالی ہونگے۔
    ساتھ واضح اشارہ موجود تھا۔۔۔۔
    اب اور کیا کہوں میں کیا اسی لیے حدیث کا علم حاصل کیا تھا کہ مسلمان بھائیوں پر احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم فٹ کرکے انھیں فتنہ قرار دیا جائے۔

    محمد شاکر عزیز at 1 نومبر، 2006 6:15 PM

ایک تبصرہ شائع کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔